نئی دہلی ، 8/جون ( ایس او نیوز /ایجنسی) نتائج مکمل طور پر بی جے پی کے خلاف آئے۔ انتخابی نتائج نے تمام ایگزٹ پولز کو غلط ثابت کر دیا۔ تاہم انتخابی نتائج میں انڈیا الائنس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔تاہم 2014 اور 2019 کے مقابلے میں این ڈی اے کی سیٹوں میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی جبکہ انڈیا الائنس کو بڑی برتری حاصل ہوئی لیکن اس سب کے باوجود این ڈی اے نے انڈیا الائنس سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔ این ڈی اے نے بھی جمعہ کو صدر کے سامنے پی ایم مودی کے وزیر اعظم بننے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ نریندر مودی 9 جون کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا سکتے ہیں۔اس دوران کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ ششی تھرور نے جمعہ کو کہا کہ ووٹرز نے بی جے پی کے حد سے زیادہ تکبر اور میری بات مانو، ورنہ راستہ تلاش کرو کے رویہ کو ‘نامناسب’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ کے لیے ایک چیلنج ہوگا کیونکہ وہ حکومت چلاتے ہوئے مشورہ کرنے کی عادت نہیں رکھتے ہیں۔
ششی تھرور نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کے لیے اب یہ قابل عمل نہیں رہے گا کہ وہ پارلیمنٹ کے ساتھ ایک نوٹس بورڈ کی طرح برتاؤ کرے اور اس سے تمام فیصلوں کے لیے ربڑ سٹیمپ کی توقع رکھے۔تھرور نے کہا کہ یہ مناسب ہوگا کہ راہل گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری سنبھالیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی لوک سبھا انتخابات کے مین آف میچ ہیں۔ کانگریس نے کئی مقامات پر گیند کو میدان سے باہر کر دیا۔